Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
317 - 764
	 البتہ یاد رہے کہ جہاں  عدل و انصاف یا دین کا معاملہ ہووہاں  رشتے داری کا لحاظ نہ کرنے اور اس کے مقابلے میں  دین کو ترجیح دینے کا حکم ہے ،یہاں  قرآنِ مجید سے اس کی دو مثالیں  ملاحظہ ہوں ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ‘‘(نساء:۱۳۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ کے لئے گواہی دیتے ہوئے انصاف پر خوب قائم ہوجاؤچاہے تمہارے اپنےیا والدین یا رشتے داروں  کے خلاف ہی (گواہی) ہو۔
	اور ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۚ-وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا‘‘(انعام:۱۵۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب بات کرو تو عدل کرو اگرچہ تمہارے رشتے دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔
	اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زیادہ رشتے داروں  کو ترجیح دیتے ہیں ، ان کے بارے میں  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ‘‘(سورہِ توبہ:۲۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں  اور تمہاراخاندان اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات تمہیں  اللہ اور اس  کے رسول اور اس کی راہ میں  جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں  تو انتظار کرو یہاں  تک کہ اللہ  اپنا حکم لائے اور اللہ نافرمان لوگوں  کو ہدایت نہیں  دیتا۔
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴)