بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰) وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ‘‘(رعد:۱۹۔۲۱)
ہیں ۔ وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور معاہدے کو توڑتے نہیں ۔ اور وہ جواسے جوڑتے ہیں جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے خوفزدہ ہیں ۔
اور ارشاد فرماتا ہے :’’وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ‘‘(رعد:۲۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔
اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرما چکاتو (اس کی مخلوق میں سے )رشتہ کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں اِستِغاثہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا ہے؟ ‘‘اس نے عرض کی:میں (رشتہ) کاٹنے والوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ارشاد ہوا: کیا تو ا س پر راضی نہیں ہے کہ جو تجھے مِلائے میں اسے مِلاؤں گا اور جو تجھے کاٹے میں اسے کاٹ دوں گا؟ اس نے عرض کی:اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، ہاں !میں راضی ہوں ۔ارشاد فرمایا’’تو بس تیرے ساتھ یہی ہوگا۔( بخاری، کتاب التفسیر، باب وتقطّعوا ارحامکم، ۳/۳۲۶، الحدیث: ۴۸۳۰)
اورحضرت ابوبَکْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سرکشی اور رشتے داری توڑنے سے بڑھ کر کوئی گناہ اس بات کا مستحق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزادنیا میں جلد دیدے اور اس کے ساتھ اس کیلئے آخرت میں بھی عذاب کا ذخیرہ رہے۔ (یعنی یہ دونوں گناہ دنیا میں جلد سزا اور آخرت میں عذاب کے زیادہ مستحق ہیں ۔) (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ... الخ، ۵۷-باب، ۴/۲۲۹، الحدیث: ۲۵۱۹)