شکار تھے ،بچے، جوان،بوڑھے،مرداور عورت الغرض ہر سطح کے انسان جس ظلم و زیادتی اور بے رحمی کا شکار تھے وہ تاریخ کے واقِف کار سے ڈَھکی چُھپی نہیں اور ا س کے مقابلے میں دینِ اسلام کے تاریخی کارناموں پر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ دینِ اسلام نے ہی انسانیت کو ظلم و ستم کے گہرے اندھیرے سے نکالا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں کو سر اُٹھا کر جینا سکھایا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں میں انسانیت کی قدر اور عظمت پیدا کی ،دینِ اسلام نے ہی زمین میں فساد کوختم کر کے پُر سکون معاشرہ اور امن کی فضا قائم کی ،انسانوں کو ان کے حقوق دلائے اور ان کے حقوق پر دست اندازی کرنے والوں کو شکنجے میں جکڑا اور بڑے فسادیوں کے فساد سے دوسروں کو بچانے کے لئے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کے ذریعے ہونے والے فساد سے دوسرے انسانوں کی حفاظت ہو اور یہ دوسروں کے لئے عبرت کا مقام بنیں اور وہ فساد برپا کرنے سے باز رہیں ،اسی تناظُر میں اسلامی جہا د کو انصاف کی نظر سے دیکھا جائے اور ا س کے بنیادی مقاصد پر سچے دل سے غور کیا جائے تو ہر عقلِ سلیم رکھنے والے شخص پر واضح ہو جائے گاکہ اسلامی جہاد سراپا رحمت ہے کیونکہ اس کے ذریعے فساد کا خاتمہ ہو تا اور معاشرے میں امن و سکون قائم ہوتا ہے۔
اسلام کی نظر میں رشتے داری کی اہمیت:
آیت میں رشتے داریاں توڑنے کے موضوع پر بھی کلام ہے تو اس کے بارے میں اسلامی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں،چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا‘‘(نساء:۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پرایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتوں (کو توڑنے سے بچو۔) بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے :
’’اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ(۱۹) الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے