Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
314 - 764
ہیں  اور ہمارے قبیلوں  سے تعلق رکھتے ہیں  تو ان سے جنگ کرکے انہیں  قتل کرنارشتے داری کو توڑ دینا ہے اور یہ کوئی اچھا کام نہیں  ہے۔ ان کے رد میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے منافقو! تم سے یہ بعید نہیں  کہ اگر تمہیں  حکومت مل جائے تو تم اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے والے کو قتل کر کے زمین میں  فساد پھیلاؤ اور رشتے داری توڑ دو۔کیادورِ جاہلیت میں  تم آپس میں  لڑائی نہیں  کرتے تھے ؟اورکیا ا س دوران ایک دوسرے کو قتل نہیں  کرتے تھے؟ اور تم اپنی بیٹیو ں  کو زندہ دفن نہیں  کرتے تھے؟ کیا تمہاری یہ لڑائیاں  ، قتل اور بیٹیوں  کو زندہ دفن کر دینے جیسا گھناؤنا فعل زمین میں  فساد پھیلانا اور رشتے داری توڑ دینا نہیں  تھا؟ تو اب تم کس منہ سے یہ کہتے ہو کہ جہاد کرنا زمین میں  فساد پھیلانے اور رشتہ داری توڑ دینے جیسی خرابیوں  کا حامِل ہے اوران سب شواہد کے ہوتے ہوئے تمہارا جہاد میں  شریک نہ ہونے کے لئے یہ عذر پیش کرناکسی طرح بھی درست نہیں  ہے۔
اسلامی جہاد رحمت ہے یا فساد؟
	اس سے معلوم ہوا کہ منافقین اسلامی جہاد کو زمین میں  فساد اور خرابیوں  کاسبب سمجھتے تھے اس لئے جہاد سے منہ موڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے منافقوں  کا جو رد فرمایا اس سے معلوم ہواکہ منافقوں  کااسلامی جہاد کے بارے میں  یہ نظریہ غلط و باطل تھا اوراس سے ان کا مقصد صرف جہاد میں  جانے سے بچنا اور دوسروں  کو جہاد میں  شرکت سے روکنا تھا۔فی زمانہ بھی اسلام کے دشمن اسلامی جہاد پر اسی طرح کے اعتراض کرتے ہیں  اور ان اعتراضات کے ذریعے لوگوں  کے دلوں  سے اسلام کی محبت اور اس سے قلبی تعلق ختم کر کے اس کے خلاف نفرت ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں  اور مختلف واقعات کو بنیاد بنا کر لوگوں  کے سامنے دینِ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں  جس میں  انسانیت پر بے انتہا ظلم و ستم کی تعلیم دی گئی ہے،اسی طرح اسلام دشمنوں  کے افکار و نظریات اور ان کی تعلیمات سے مرعوب کچھ نام نہاد مسلمان بھی اسلامی جہادسے متعلق ایسا کلام کرتے ہیں  جو اس کی حقیقت اوراس کے اصل مقاصد کے بالکل بر خلاف ہوتا ہے، حالانکہ ان میں  بہت سے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں  کہ حقیقت اس سے کہیں  مختلف ہے حتیٰ کہ تاریخ سے ادنیٰ سی واقِفِیَّت رکھنے والا شخص بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ دینِ اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے انسانوں  کا حال کیا تھا اور وہ ظلم و ستم کی کس چَکِّی میں  پِس رہے تھے اور لوگ کس طرح غلامی کی زنجیروں  میں  قید اور اپنے آقاؤں  کے ظلم و ستم کا