ہی شوق تھااور اسی شوق کی بنا پر وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہو،تا کہ ہم جہاد کریں اور یہی بات منافق بھی کہہ دیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اوراس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایاگیا کہ مسلمان کہتے ہیں : کوئی سورت کیوں نہیں اتاری گئی؟ پھر جب کوئی واضح سورت اتاری جاتی ہے جس کا معنیٰ واضح ہو اور اس کا کوئی حکم منسوخ ہونے والا نہ ہو اور اس میں جہاد کا حکم دیاگیا ہو تو تم دلوں میں مُنافَقَت کا مرض رکھنے والوں کو دیکھو گے کہ وہ پریشان ہو کر تمہاری طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کے وقت غشی چھائی ہوئی ہو،حالانکہ اگر یہ اس وقت اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری کرتے اور اچھی بات کہتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔تو جب جہاد کاحکم قطعی ہوگیا اور جہاد فرض کردیا گیا تو منافقوں نے اس سے جان چھڑانے کیلئے کوششیں شروع کردیں حالانکہ اگر یہ ایمان اوراطاعت پر قائم رہ کر اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدے میں سچے رہتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا۔( خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴/۱۳۹، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۲۰، ص۱۱۳۶، ملتقطاً)
فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا تم اس بات کے قریب ہو کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔
{فَهَلْ عَسَیْتُمْ: تو کیا تم اس بات کے قریب ہو۔} جب منافقوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ مشرکین کے خلاف جہاد کریں تو انہوں نے جہاد میں شرکت نہ کرنے سے متعلق یہ عذر پیش کیا کہ ہم مشرکوں کے خلاف جہاد کیسے کریں کیونکہ اس میں ایک خرابی یہ ہے کہ انسانوں کو قتل کرنا زمین میں فساد پھیلانا ہے اور دوسری خرابی یہ ہے کہ عرب والے ہمارے رشتہ دار