Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
312 - 764
احوال کو جاننے والا ہے ، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں  ہے تو تم اس سے ڈرو ۔( جلالین مع صاوی، محمد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۵/۱۹۵۸)
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌۚ-فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُۙ-رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِؕ-فَاَوْلٰى لَهُمْۚ(۲۰) طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ- فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ- فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور مسلمان کہتے ہیں  کوئی سورت کیوں  نہ اُتاری گئی پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں  جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں  جن کے دلوں  میں  بیماری ہے کہ تمہاری طرف اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں  جس پر مُردنی چھائی ہو تو اُن کے حق میں  بہتر یہ تھا ۔کہ فرمانبرداری کرتے اور اچھی بات کہتے پھر جب حکم ناطق ہوچکا تو اگر اللہ سے سچّے رہتے تو ان کا بھلا تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مسلمان کہتے ہیں : کوئی سورت کیوں  نہیں  اتاری گئی؟ پھر جب کوئی واضح سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں  جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو تم ان لوگوں  کو دیکھو گے جن کے دلوں  میں  بیماری ہے کہ تمہاری طرف ایسے دیکھتے ہیں  جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت چھائی ہوئی ہوتو ان کے لئے بہتر تھا۔ فرمانبرداری کرنا اور اچھی بات کہنا ،پھر جب (جہاد کا)حکم قطعی ہوگیا تو اگر اللہ سے سچے رہتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا۔
{وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اور مسلمان کہتے ہیں ۔} شانِ نزول :ایمان والوں  کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرنے کا بہت