Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
303 - 764
لئے وہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند بنا دیتا ہے جس کے نتیجے میں  اسے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) جنت اور اس کی ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتیں  نصیب ہوتی ہیں  اور کافر چونکہ آخرت کا منکر ہے ا س لئے وہ دنیا میں  لذّتوں  اور عیش و عشرت میں  مشغول ہوا تو ا س کے لئے آخرت میں  جہنم کی قید اور زَقُّوم کھانے کے سواکچھ باقی نہ بچا۔( روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۱۲، ۸/۵۰۴)
	افسوس! فی زمانہ مسلمانوں  کی غفلت کا حال بھی کچھ کم نظر نہیں  آتا اور ان کا حال دیکھ کر یہ نظر آتا ہے کہ وہ موت کے بعد قبر و حشر کے ہولناک احوال سے بے فکر ہیں  ،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ہونے والی پیشی اور اعمال کے حساب سے غافل ہیں  اور ان کامقصودصرف دنیا کے عیش و عشرت سے لطف اندوز ہونا اور ا س کی زیب و زینت سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطافرمائے ،اٰمین۔
مومن اور کافر کے کھانے میں  فرق:
	یہاں  آیت کی مناسبت مومن اور کافر کے کھانے میں 4 فرق ملاحظہ ہوں :
(1)… سچا مسلمان کھانے سے پہلے حلال وحرام کی تمیزکرتاہے کہ کیامیرے لیے اس کاکھاناشرعاًجائز بھی ہے یا نہیں ؟ جبکہ کافر جانوروں  کی طرح حلال وحرام کی تمیزکیے بغیرکھاتارہتاہے ۔ 
(2)… کافر کی نظرجانوروں  کی طرح ہر وقت کھانے پینے میں  رہتی ہیں  جبکہ مومن کی نگاہ ذکر و فکر میں  رہتی ہے۔
(3)… کافر کھانے پینے کا حریص ہوتاہے جبکہ مومن قَناعَت کرنے والا ہوتا ہے۔
(4)…کافر جانور کی طرح اپنے انجام سے غافل رہتے ہوئے کھاتا پیتاہے جبکہ مومن اپنے انجام پر نگاہ رکھتے اورا س کی فکر کرتے ہوئے کھاتا ہے ۔
	یاد رہے کہ دنیا کی نعمتوں  سے لُطف اندوز ہونا بُرانہیں  بلکہ بُرا یہ ہے کہ حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر جو کچھ ملے اس سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا جائے، یونہی بُرا یہ ہے کہ نعمتوں  میں  مشغول ہو کر اپنی آخرت کو فراموش کر دیا جائے، بُرا یہ ہے کہ نعمتوں  میں  کھو کر بندہ اپنے انجام سے غافل ہو جائے ا س لئے جو مسلمان اپنے انجام کی فکر کرتے ہوئے اور آخرت کو بہتر بنانے کی تیاری کرتے ہوئے دنیا کی جائز و حلال نعمتوں  سے فائدہ اٹھاتا ہے اس میں  کوئی برائی نہیں  اور جو مسلمان حلال و حرام کی پرواہ کئے بغیر نعمتوں  سے لطف اندوز ہوتا ہے یا اپنی آخرت اور انجام سے بے فکر ہو کر نعمتوں