سے لطف اندوز ہونے میں مشغول رہتا ہے وہ ضرور برا ہے ۔
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَۚ-اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے قوّت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا ہم نے اُنہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کتنے ہی ایسے شہر ہیں جوتمہارے اِس شہر سے زیادہ قوت والے تھے جس نے تمہیں باہر نکال دیا، ہم نے انہیں ہلاک کردیاتو ان کیلئے کوئی مددگار نہیں ۔
{وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ: اور کتنے ہی ایسے شہر ہیں جوتمہارے اس شہر سے زیادہ قوت والے تھے۔} شانِ نزول:جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مکہ ٔمکرمہ سے ہجرت کی اور غار ِثور کی طرف تشریف لے چلے تومکۂ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا’’اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تُو اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تو مجھے بہت پیارا ہے ، اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا ،اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اس شہر سے نکلنے پر غم نہ فرمائیں ، بے شک اللہ تعالیٰ آپ کی عزت میں ہی اضافہ فرمائے گا اور ان کافروں کو ذلیل کرے گا اور اپنی تسلی کے لئے اس بات پر غور فرمائیں کہ سابقہ زمانے میں میں بھی کئی شہروں کے باسی اِن کفارِ مکہ سے زیادہ قوت والے تھے جو آپ کے مکہ ٔمکرمہ سے نکلنے کا سبب بنے ہیں ،ہم نے ان سابقہ قوت والے لوگوں کو ہلاک کردیاتو ان کیلئے کوئی مددگار نہیں تھا جوانہیں عذاب اور ہلاکت سے بچا سکتا تو اسی طرح ہم آپ کے شہر والے کافروں کے ساتھ کریں گے، اس لئے آپ اسی طرح صبر فرمائیں جیسے سابقہ شہروں کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر فرمایا۔( صاوی ، محمد ، تحت الآیۃ : ۱۳، ۵/۱۹۵۴ ، خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۱۳، ۴/۱۳۶، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۱۳، ۸/۵۰۵، ملتقطاً)