ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں اور کافر فائدہ اٹھارہے ہیں اور ایسے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں اور آگ ان کا ٹھکانہ ہے۔
{اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ: بیشک اللہ داخل فرمائے گا۔} اس سے پہلی آیات میں ایمان والوں اور کافروں کا دنیوی حال بیان کیا گیا اور اس آیت میں ان دونوں کا اخروی حال بیان کیا جا رہا ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ایمان والوں کا مددگار ہے اس لئے انہیں اس کا آخرت میں ثمرہ یہ ملے گا کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں اور کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے انجام کو فراموش کئے ہوئے ہیں اور غفلت کے ساتھ چند دنوں کے لئے اپنے مال و متاع سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور ایسے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں کیونکہ جانوروں کو یہ تمیز نہیں ہوتی کہ کہاں سے کھانا ہے، ا س لئے انہیں جہاں سے جو مل جائے اسے کھانا شروع کر دیتے ہیں ، اسی طرح کھاتے وقت جانور اس چیز سے غافل ہوتے ہیں کہ اس کھانے کے بعد وہ ذبح کر دئیے جائیں گے اور یہی حال کفار کا ہے جو حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر کھاتے رہتے ہیں اور غفلت کے ساتھ دنیا طلب کرنے اور ا س کے عیش و عشرت سے فائدہ اٹھانے میں مشغول ہیں اور آنے والی مصیبتوں کا خیال بھی نہیں کرتے حالانکہ جہنم کی آگ ان کا ٹھکانا ہے۔( تفسیرکبیر، محمد، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰/۴۴-۴۵، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۱۲، ۸/۵۰۳، ملتقطاً)
کافروں اور ایمان والوں میں فرق
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس کا حاصل یہ ہے کہ کافرصرف اپنے پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں اور آخرت کی جانب کوئی توجہ نہیں کرتے تو انہوں نے اپنے دنوں کو کفر اور گناہوں میں ضائع کر دیا اور دنیا میں جانوروں کی طرح کھاتے پیتے رہے جبکہ ایمان والے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں ،ریاضت اور مجاہدے کرنے میں مشغول رہتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں عالیشان جنتیں عطا فرما کر ان پر احسان فرمایا اور یہیں سے سیِّدُ المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمان ’’دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے ‘‘کا راز ظاہر ہوا کہ مومن ا س چیز کو پہچانتا ہے کہ دنیا قید خانہ ہے اور ا س کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں،اس