Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
297 - 764
 دریافت کرنے کی حاجت درپیش ہوتی ہے بلکہ وہ واقف کاروں  کی طرح داخل ہوں  گے ، اپنے منازِل اور مساکِن پہچانتے ہوں  گے ، اپنی زوجہ اور خُدّام کو جانتے ہوں  گے ، ہر چیز کا مقام ان کے علم میں  ہوگا گویا کہ وہ ہمیشہ سے یہیں  کے رہنے بسنے والے ہیں۔( ابن کثیر ، محمد ، تحت الآیۃ: ۴-۶، ۷/۲۸۵-۲۸۶، مدارک ، محمد، تحت الآیۃ: ۴-۶، ص۱۱۳۴، بغوی، محمد، تحت الآیۃ: ۴-۶، ۴/۱۶۲، ملتقطاً)
شہید کے فضائل:
	احادیث میں  بھی شہید کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں  ،یہاں  ان میں  سے دو احادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت مِقْدام بن مَعدیکَرِب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  شہید کی چھ خصلتیں  ( یعنی درجے) ہیں  ،(1) پہلی ہی دفعہ میں  اسے بخش دیا جاتا ہے۔ (2) اسے جنت کا ٹھکانا دکھادیا جاتا ہے۔ (3) اسے قبر کے عذاب سے امان دی جاتی ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں  رہے گا۔ (4) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یا قوت دنیا اور دنیا کی چیزوں  سے بہتر ہوگا۔ (5) 72حورِعِین سے اس کا نکاح کیا جائے گا ۔(6) او راس کے 70 قریبی رشتہ داروں  کے بارے میں  اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔( ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب فی ثواب الشہید، ۳/۲۵۰، الحدیث: ۱۶۶۹)
(2)… حضرت قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’شہید کو چھ خصلتیں  عطا کی جاتی ہیں  (1)اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی ا س کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں ۔ (2)اسے جنت کا ٹھکانا دکھادیا جاتا ہے۔ (3)حورِ عِین سے اس کا نکاح کیا جائے گا۔(4،5) بڑی گھبراہٹ اور قبر کے عذاب سے امن میں  رہے گا۔(6)اسے ایمان کا حُلّہ پہنایا جائے گا۔ (مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث قیس الجذامی رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۶/۲۳۴، الحدیث: ۱۷۷۹۸)
 اہل جنت اپنے مقام اورجنتی نعمتوں  کو پہچانتے ہوں  گے :
	 آیت نمبر6میں  شہید کے بارے میں بیان ہوا کہ اللہ  تعالیٰ نے انہیں  جنت میں  ان کے مقام اور نعمتوں  کی پہچان کروا دی تھی اور حدیثِ پاک میں  عام جنتیوں  کے بارے میں  بھی اسی طرح کی فضیلت بیان کی گئی ہے ،جیسا کہ