اطاعت قبول کرلیں یا اسلام لائیں ، اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے ۔( مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۱۳۳، روح المعانی، محمد، تحت الآیۃ: ۴، ۱۳/۲۷۲-۲۷۷، ملتقطاً)
{وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ: اور اللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لے لیتا۔} یہاں جہاد کا حکم دینے کی حکمت بیان کی جا رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو جنگ کے بغیر ہی کافروں کو زمین میں دھنسا کر ،یا ان پر پتھر برسا کر، یا اور کسی طرح خود ہی اُن سے بدلہ لے لیتا (جیسا کہ پچھلی قوموں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے)لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا بلکہ اس نے تمہیں جہاد کا حکم دیا تاکہ کافروں کے ذریعے مومنوں کو جانچے (کہ وہ اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں یا نہیں ) کیونکہ اگر وہ جہاد کرتے ہیں تو عظیم ثواب کے مستحق ہو جائیں گے اور دوسری طرف مومنوں کے ذریعے کافروں کو جانچے ( کہ وہ حق کا اقرار کرتے ہیں یا نہیں اور اس میں یہ بھی حکمت ہے) کہ تمہارے ہاتھوں انہیں کچھ عذاب جلدی پہنچ جائے اور ان میں سے بعض کافر اس سے نصیحت حاصل کرکے اسلام قبول کرلیں ۔( روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۴، ۸/۴۹۹-۵۰۰، روح المعانی، محمد، تحت الآیۃ: ۴، ۱۳/۲۷۷، ملتقطاً)
اللہ تعالیٰ کی جانچ سے کیا مراد ہے؟
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ازلی علم سے جانتا ہے کہ کون سا مسلمان اس کی راہ میں جہاد کرے گا اور کون سا کافر اسلام قبول کرے گا اور یہاں اللہ تعالیٰ کے جانچنے سے یہ ہر گز مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے معلوم نہ تھا اور اس جانچ کے ذریعے اسے معلوم ہوا ، بلکہ اس جانچ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ فرماتا ہے جیسا امتحان لینے اور آزمانے والا کرتا ہے تاکہ فرشتوں اور جنّ و اِنس کے سامنے معاملہ ظاہر ہوجا ئے۔
{وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ : اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے۔} جنگ کے دوران چونکہ مسلمان شہیدبھی ہوتے ہیں اس لئے یہاں سے شہیدوں کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے ،چنانچہ آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو گئے، اللہ تعالیٰ ہرگز ان کے عمل ضائع نہیں فرمائے گا بلکہ ان کے اعمال کا ثواب پورا پورا دے گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں بلند درجات کاراستہ دکھائے گا اوران کے اعمال قبول کر کے ان کے حال کی اصلاح فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی پہچان کروادی تھی اس لئے وہ جنت کی منازِل میں اس نا آشنا کی طرح نہ پہنچیں گے جو کسی مقام پر جاتا ہے تو اسے ہر چیز کے بارے میں