وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ(۵) وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو تو گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب اُنہیں خوب قتل کرلو تو مضبوط باندھو پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو یہاں تک کہ لڑائی اپنابوجھ رکھ دے بات یہ ہے اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا مگر اس لیے کہ تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا۔ جلد اُنہیں راہ دے گا اور اُن کا کام بنادے گا۔ اور اُنہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب کافروں سے تمہارا سامناہوتو گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم انہیں خوب قتل کرلو تو (قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ دو پھر اس کے بعدچاہے احسان کرکے چھوڑ دو یافدیہ لے لو ،یہاں تک کہ لڑائی اپنے بوجھ رکھ دے۔ (حکم) یہی ہے اوراگر اللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لے لیتا مگر (تمہیں قتال کا حکم دیا) تاکہ تم میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعے جانچے اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہیں فرمائے گا۔ عنقریب اللہ انہیں راستہ دکھائے گا اور ان کے حال کی اصلاح فرمائے گا۔ اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا، اللہ نے انہیں اس کی پہچان کروادی تھی۔
{فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ: تو جب کافروں سے تمہارا سامناہوتو گردنیں مارو۔} یعنی جب کافروں اور ایمان والوں کا حال یہ ہے جو بیان ہوا ،تو اے ایمان والو!جب کافروں کے ساتھ تمہاری جنگ ہوتواس دوران لڑنے والے کافروں کی کوئی رعایت نہ کرو بلکہ انہیں قتل کرویہاں تک کہ جب تم انہیں کثرت سے قتل کر لو(جس کی حد یہ ہے کہ کافروں کا زورٹوٹ جائے اور مسلمانوں پر غالب آنے کا امکان نہ رہے) اور باقی رہ جانے والوں کو قید کرنے کا موقع آجائے تواس وقت انہیں مضبوطی سے باندھ دو تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں ۔قید کرنے کے بعد تمہیں دو باتوں کا اختیار ہے ، چاہے ان قیدیوں پر احسان کرکے انہیں کوئی فدیہ لئے بغیرچھوڑ دو ،یاان سے فدیہ لے لو ۔یہ قتل اور قید کرنے کا حکم اس وقت تک ہے کہ لڑائی کرنے والے کافراپنا اسلحہ رکھ دیں اوراس طرح جنگ ختم ہوجائے کہ مشرکین مسلمانوں کی