گیاکہ ’’نافرمان لوگ ہی ہلاک کئے جاتے ہیں ‘‘ اس پر گویا یہ سوال پیدا ہوا کہ نافرمان لوگوں کو کیسے ہلاک کیا جاتا ہے حالانکہ وہ تو نیک اعمال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کسی کا نیک عمل ضائع نہیں فرماتا اگرچہ وہ رائی کے دانے کے برابر ہو؟اس کے جواب میں یہاں ارشاد فرمایاگیا کہ نافرمان وہ لوگ ہیں جو خود اسلام میں داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام قبول کرنے سے روکا، (اور یہ اس طرح ہلاک ہوئے کہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام نیک اعمال برباد کر دئیے اور آخرت میں انہیں ان اعمال کا کچھ ثواب نہیں ملے گا کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل مقبول نہیں۔(تاویلات اہل السنہ، محمد، تحت الآیۃ:۱، ۴/۴۹۹، مدارک، محمد،تحت الآیۃ:۱،ص۱۱۳۲، جلالین،القتال،تحت الآیۃ:۱، ص۴۱۹، خازن، محمد،تحت الآیۃ:۱،۴/۱۳۳، روح المعانی، محمد،تحت الآیۃ:۱،۱۳/۲۶۹-۲۷۰، ملتقطاً)
کفر نیک اعمال کی بربادی کا سبب ہے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفر نیک اعمال کی بربادی کا بہت بڑا سبب ہے ۔یاد رہے کہ جس طرح کفر کی حالت میں کئے گئے نیک اعمال باطل اور بے کار ہیں اورآخرت میں ان کا کوئی اجر و ثواب نہیں ، اسی طرح ایمان کی حالت میں کئے گئے نیک اعمال بھی کفر کرنے کی صورت میں ضائع ہو جاتے ہیں اور ان کے ثواب سے بھی بندہ محروم کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۱۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور ارشاد فرماتا ہے :
’’قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآىٕلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَاۚ-وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۱۸)اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ ۚۖ-فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو دوسروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں : ہماری طرف چلے آؤ اور وہ لڑائی میں تھوڑے ہی آتے ہیں ۔ تمہارے اوپر بخل کرتے ہوئے آتے ہیں پھر