Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
290 - 764
ترجمۂکنزالایمان: جنہوں  نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اللہ نے اُن کے عمل برباد کئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جنہوں  نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال برباد کردئیے۔
{اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: جنہوں  نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا۔} مفسّرین کا ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مدینہ منورہ کے ان اہلِ کتاب کے بارے میں  نازل ہوئی جنہوں  نے سیِّدُالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا انکار کیا۔اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں  نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کے ساتھ کفر کیا ،خود بھی اسلام میں  داخل نہ ہوئے اور اور دوسروں  کو بھی اسلام قبول کرنے سے روکا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کا وہ ایمان ضائع کر دیاجو یہ لوگ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری سے پہلے پچھلے انبیاء کرام اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پررکھتے تھے ۔
	دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت کفارِ مکہ کے بارے میں  نازل ہوئی ہے۔ اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں  نے کفر کیا ، خود بھی اسلام میں  داخل نہ ہوئے اور دوسروں  کو بھی اسلام قبول کرنے سے روکا توانہوں نے کفر کی حالت میں  جو بھی نیک اعمال کئے ہوں خواہ بھوکوں  کو کھلایا ہو، یا اسیروں  کو چھڑایا ہو ،یا غریبوں  کی مد د کی ہو،یا مسجدِ حرام یعنی خانہ کعبہ کی عمارت میں  کوئی خدمت کی ہو،یہ سب اعمال اللہ تعالیٰ نے برباد کر دئیے اور آخرت میں  انہیں  ان اعمال کا کچھ ثواب نہیں  ملے گا کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیکی قبول نہیں  ۔
	بعض مفسّرین کے نزدیک یہاں  کفارِ مکہ کے وہ افراد مراد ہیں  جو اپنے کفر کے ساتھ ساتھ دوسروں  کو بھی ایمان قبول کرنے سے روکتے تھے اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف سازشیں  کرتے تھے تو ان کافروں  نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے جو سازشیں  تیار کیں ، مکر سوچے اور حیلے بنائے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام کام باطل کردیئے اور ان کے مقابلے میں  اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد و نصرت فرمائی اور ان کے دین کو تمام دینوں  پر غالب کر دیا۔
	تیسرا قول یہ ہے کہ ا س آیت کا تعلق سورہِ احقاف کی آخری آیت کے ساتھ ہے ،اُس کے آخر میں  ارشاد فرمایا