شہید ہونے والے مجاہدوں کا ثواب بیان کیاگیا اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جہاد کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرنے کی بشارت دی۔
(3)…کافروں کی رسوائی کی وجہ بیان کی گئی کہ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو ناپسند کرتے ہیں ا س لئے رسوا ہوئے ہیں ۔
(4)…کفار ِمکہ کے سامنے سابقہ لوگوں کا انجام بیان کر کے انہیں بتایاگیا کہ ان کا انجام بھی انہی جیسا ہو سکتا ہے۔
(5)…پرہیز گار مسلمانوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف بیان کئے گئے ۔
(6)…منافقوں کی صفات بیان کی گئیں اور انہیں بتایاگیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے چھپے ہوئے بغض اورکینے کوظاہر فرما دے گا۔
(7)…اس سورت کے آخر میں دنیوی زندگی کی حقیقت اور بخل کرنے کی مذمت بیان کی گئی ۔
سورۂ احقاف کے ساتھ مناسبت:
سورۂ محمد کی اپنے سے ماقبل سورت ’’احقاف‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ احقاف کی آخری آیت کے اس حصے ’’فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘ کا سورۂ محمد کی پہلی آیت کے ساتھ ایسا مضبوط ربط ہے کہ ان دونوں آیتوں کی تلاوت کے دورا ن اگر بِسْمِ اللہ نہ پڑھی جائے تو ایسے لگے گا جیسے یہ ایک ہی آیت ہے۔( تناسق الدّرر، سورۃ القتال، ص۱۱۷)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ(۱)