سورۂ محمد
سورۂ محمد کا تعارف
مقامِ نزول:
سورئہ محمد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 4 رکوع، 38 آیتیں ،558کلمے اور 2475حروف ہیں ۔
’’محمد ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کی دوسری آیت میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اسمِ گرامی’’محمد‘‘ ذکر کیا گیا ہے اس مناسبت سے ا سے’’سورۂ محمد‘‘ کہتے ہیں ،نیز اس سورت کا ایک نام ’’سورۂ قِتال‘‘ بھی ہے اورا س کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت میں کفار کے ساتھ جہاد کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔
سورۂ محمد کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں کفار کے ساتھ جہاد کرنے کے احکام اور جہاد کرنے کاثواب بیان کیاگیا ہے،اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں بیان کیا گیا کہ جو کافر دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کردئیے جبکہ وہ لوگ جواللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے والی کتاب قرآنِ مجید پر ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیاں مٹا دیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مسلمانوں نے حق کی پیروی کی۔
(2)…کفار کے ساتھ جنگ کے دوران انہیں قتل کرنے اورکافر قیدیوں کے بارے میں حکم دیا گیا ،جنگ کے دوران