آل کے لئے مناسب نہیں ،اے عائشہ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا، بے شک اللہ تعالیٰ اُلُوا الْعَزْم رسولوں سے یہ پسند فرماتا ہے کہ وہ دنیا کی تکلیفوں پر اور دنیا کی پسندیدہ چیزوں سے صبر کریں ، پھر مجھے بھی انہی چیزوں کا مکلف بنانا پسند کیا جن کا انہیں مکلف بنایا ،تو ارشاد فرمایا:
’’فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو (اے حبیب!) تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا ۔
اور اللہ تعالیٰ کی قسم! میرے لئے ا س کی فرمانبرداری ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ کی قسم! میرے لئے ا س کی فرمانبرداری ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کی قسم!میں ضرور صبر کروں گا جس طرح اُلُوا الْعَزْم رسولوں نے صبر کیا اور قوت تو اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے۔( اخلاق النّبی لابی شیخ اصبہانی، ذکر محبتہ للتیامن فی جمع افعالہ، ص۱۵۴، الحدیث: ۸۰۶)
حضرت عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :خدا کی قسم!تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے (کسی سے)انتقام نہیں لیا،ہاں جب اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیتے تھے ۔( بخاری، کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود... الخ، ۴/۳۳۱، الحدیث: ۶۷۸۶)
صبرکے 15 فضائل:
یہاں آیت میں ہم مسلمانوں کے لئے بھی صبر کرنے کی ترغیب ہے اور ا س کی مزید ترغیب حاصل کرنے کے لئے یہاں صبر کرنے کے 15 فضائل ملاحظہ ہوں ،
(1)…صبر ایمان کا نصف حصہ ہے۔( حلیۃ الاولیاء، زبید بن الحارث الایامی، ۵/۳۸، الحدیث: ۶۲۳۵)
(2)…صبر ایمان کا ایک ستون ہے۔( شعب الایمان، باب القول فی زیادۃ الایمان ونقصانہ... الخ، ۱/۷۰، الحدیث: ۳۹)
(3)…بندے کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔( مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ السجدۃ، ما رزق عبد خیر لہ... الخ، ۳/۱۸۷، الحدیث: ۳۶۰۵)