وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى‘‘(شوریٰ:۱۳)
ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی اور جس کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو تاکید فرمائی۔
حضرت علامہ مُلّا علی قاری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہ پانچوں ہی اُلُوا الْعَزْم رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر مذکورہ (بالا) دونوں آیتوں میں اکٹھا کر دیا ہے ۔( مرقاۃ المفاتیح،کتاب الفتن،باب العلامات بین یدی الساعۃ... الخ، الفصل الاول، ۹/۳۷۶، تحت الحدیث: ۴۵۷۲)
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :صحیح قول کے مطابق یہ پانچوں ہی اُلُوا الْعَزْم رسول ہیں ۔( مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان، باب الایمان بالقدر، الفصل الثالث، ۱/۳۳۳، تحت الحدیث: ۱۲۲)
صدرُا لشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :نبیوں کے مختلف درجے ہیں ، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ہمارے آقا و مولیٰ سیِّدُالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہیں ، حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ) کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خَلِیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کا ہے،پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام، پھر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا، اِن حضرات کو مُرْسَلِیْنِ اُلُوا الْعَزْم کہتے ہیں اور یہ پانچوں حضرات باقی تمام انبیا و مُرسَلین ،اِنس و مَلک و جن و جمیع مخلوقاتِ الٰہی سے افضل ہیں ۔( بہار شریعت، حصہ اول، ۱/۵۲-۵۴)
سید المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا صبر:
راہِ حق میں تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جتنا ستایا گیا اور جتنی تکلیفیں پہنچائی گئیں اتنی کسی اور کو نہیں پہنچائی گئیں اور صبر کا جیسا مظاہرہ آپ نے فرمایا ویسا اور کوئی نہ کر سکا، جیسا کہ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ڈرایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ڈرایا گیا اور جتنا میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ستایا گیا ہوں اتنا کوئی اورنہیں ستایا گیا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ... الخ، ۳۴-باب، ۴/۲۱۳، الحدیث: ۲۴۸۰)
حضرت عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :حضور ِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا’’اے عائشہ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا، دنیا (کی زیب و زینت اور عیش) محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کی