Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
283 - 764
فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان:  تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا اور اُن کے لیے جلدی نہ کرو گویا وہ جس دن دیکھیں  گے جو انہیں  وعدہ دیا جاتا ہے دنیا میں  نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے تو کون ہلاک کئے جائیں  گے مگر بے حکم لوگ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا اور ان کافروں کے لیے جلدی نہ کرو۔ جس دن وہ دیکھیں  گے اسے جس کی وعید انہیں  سنائی جاتی ہے (توسمجھیں  گے کہ)گویا وہ دنیا میں  دن کی صرف ایک گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ یہ ایک تبلیغ ہے تو نافرمان لوگ ہی ہلاک کئے جاتے ہیں ۔
{فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ: تو تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا۔} توحید ،نبوت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو ثابت کرنے کے بعد یہاں  سے سیِّدُ المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں  پر صبر کرنے کی نصیحت کی جا رہی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب کافروں کا انجام یہ ہے جو ہم نے ذکر کیا توآپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی ایذا پر ایسے ہی صبر کریں  جیسے ہمّت والے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کیا کیونکہ آپ بھی انہی میں  سے ہیں  بلکہ ان میں  سب سے اعلیٰ ہیں  اور ان کافروں  کے لیے عذاب طلب کرنے میں  جلدی نہ کریں  کیونکہ فی الحال اگرچہ انہیں  مہلت ملی ہوئی ہے لیکن قیامت کے دن ان (میں  سے کفر کی حالت میں  مرنے والوں ) پر عذاب ضرور نازل ہونے والاہے ، اورجس دن وہ آخرت کے اس عذاب کودیکھیں  گے جس کا انہیں  دنیا میں  وعدہ دیا جاتا ہے تو اس کی درازی اور دَوَام کے سامنے دنیا میں  ٹھہرنے کی مدت کو یہ لوگ بہت قلیل سمجھیں  گے اور خیال کریں  گے کہ گویا وہ دنیا میں  دن کی صرف ایک گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ یہ قرآن اور وہ ہدایت اور روشن نشانیاں  جو اس قرآن میں  ہیں  یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ہے تو عقلمند کو چاہئے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے اور یاد رکھو کہ وہی نافرمان لوگ ہی ہلاک کئے جاتے ہیں جو ایمان اور طاعت