Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
282 - 764
سے کہیں  آسان ہے،کیوں  نہیں ، وہ ضرور اس پر قادر ہے ۔اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ممکن شے پر قادر ہے، اور روح کا جسم کے ساتھ تعلق قائم ہونے کو دیکھا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کیونکہ اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو پہلی بار بھی قائم نہ ہوتا اور جب یہ ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مُمکِنات پر قادر ہے تو ا س سے ثابت ہوا کہ وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِؕ-اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّؕ-قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَاؕ-قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(۳۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن کافر آگ پر پیش کئے جائیں  گے ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں  کہیں  گے کیوں  نہیں  ہمارے رب کی قسم فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے (توکہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ؟ کہیں  گے: کیوں  نہیں ، ہمارے رب کی قسم، اللہ فرمائے گا: تو اپنے کفر کے بدلے عذاب چکھو۔
{ وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  یہ ثابت کیا گیا کہ مُردوں  کوزندہ کیا جانا حق ہے اور اس آیت میں  قیامت کے دن کافروں  کے بعض احوال بیان کئے جارہے ہیں  ،چنانچہ ارشاد فرمایا: جس دن کافر جہنم کی آگ پر پیش کیے جائیں  گے تو اس وقت ان سے فرمایا جائے گا: جوعذاب تم دیکھ رہے ہو کیا یہ حق نہیں ؟وہ کہیں  گے: کیوں  نہیں ، ہمارے رب کی قسم! بے شک یہ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: (آج یہ اقرار تمہیں  عذاب سے نہیں  بچائے گا ا س لئے اب) تم اپنے دنیوی کفر کے بدلے عذاب چکھو۔(تفسیرکبیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳۴، ۱۰/۳۰، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳۴، ۸/۴۹۳، ملتقطاً)
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْؕ-كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَۙ-لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍؕ-بَلٰغٌۚ-