Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
281 - 764
کی کتاب کا نام نہ لینے کا باعث یہ ہے کہ اس میں  صرف مَواعِظ ہیں  ، اَحکام بہت ہی کم ہیں ۔( بغوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳۰، ۴/۱۵۸، ابن کثیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳۰، ۷/۲۸۰، ملتقطاً)
(5)…آیت نمبر31میں  بیان ہوا کہ ایمان قبول کرنے کی صورت میں  اللہ تعالیٰ گناہ بخش دے گا۔اس میں  تفصیل یہ ہے کہ ایمان لانے سے جوگناہ بخشے جائیں  گے ان سے مراد وہ گناہ ہیں  جن کاتعلق حُقُوقُ اللہ سے ہواورجوگناہ حُقُوقُ الْعِبَاد سے متعلق ہوگئے و ہ (محض ایمان قبول کرنے سے) معاف نہیں  ہوں  گے(بلکہ ان کی تلافی ضروری ہے)۔( ابوسعود، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۵/۵۸۱)
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰىؕ-بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: کیا انہوں  نے نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں  نہ تھکا قادر ہے کہ مُردے جِلائے کیوں  نہیں  بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا انہوں  نے نہیں  دیکھاکہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں  نہ تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں  کو زندہ کرے ؟کیوں  نہیں ، بیشک وہ ہر شے پر قادرہے۔
{اَوَ لَمْ یَرَوْا: کیا انہوں  نے نہیں  دیکھا۔} اس سے پہلی آیات میں  مختلف انداز سے کفارِمکہ کو تنبیہ اور نصیحت کی گئی اور اب اس آیت میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والوں  کا دلیل کے ساتھ رد کیا جا رہاہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا: مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والوں  نے اس بات پر غور نہیں  کیاکہ اللہ تعالیٰ نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ابتداء سے آسمان اور زمین جیسی عظیم اور بڑی مخلوق بنا دی اور انہیں  بنانے میں  وہ تھکا نہیں  اور جو اللہ تعالیٰ آسمان و زمین بنا سکتا ہے کیا وہ مُردوں  کو زندہ کرنے پر قادر نہیں  جو کہ زمین و آسمان بنانے سے ظاہراً لوگوں  کے اعتبار