Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
280 - 764
کفارِ مکہ کو غور کرنا چاہئے کہ ان کی زبان وہی ہے جس میں  قرآن نازل ہوا اور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا تعلق بھی انسانوں  سے ہے جبکہ جِنّات نہ تو رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہم زبان ہیں  اورنہ آپ کی جنس سے انسان اور بشر ہیں  ،جب وہ قرآنِ مجید کی آیات سن کر سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئے ہیں  تو کفار ِمکہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں  کہ وہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قرآن کریم سن کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت، حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت اور قرآنِ مجید کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے پر ایمان لائیں ۔( روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۹-۳۲، ۸/۴۸۶-۴۹۰، روح المعانی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۹-۳۲، ۱۳/ ۲۵۹-۲۶۴، ملتقطاً)
سورہِ اَحقاف کی آیت نمبر29تا32سے متعلق 5باتیں :
	مفسرین نے ان آیات کے مختلف پہلوؤں  کی وضاحت کے لئے کثیر کلام فرمایا ہے ، یہاں  اس میں  سے 5 باتیں  ملاحظہ ہوں ،
(1)…آیت نمبر29میں  لفظِ ’’نَفر‘‘ مذکور ہے، مشہور قول کے مطابق اس کا اِطلاق تین سے لے کر دس تک اَفراد پر ہوتا ہے اورجنوں  کی جو جماعت حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  بھیجی گئی اس کی تعداد کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ وہ سات جِنّات پر اور ایک قول یہ ہے کہ وہ نو جِنّات پر مشتمل تھی۔( روح المعانی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۱۳/۲۵۹، جلالین مع صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۵/۱۹۴۳- ۱۹۴۴، ملتقطاً)
(2)…ان جِنّات کا تعلق کس علاقے سے تھا ا س کے بارے میں  بھی ایک قول یہ ہے کہ ان کا تعلق یمن کے علاقے نَصِیبِین سے تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا تعلق نِیْنَویٰ سے تھا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ جِنّات شَیْصَبان سے تھے۔( روح المعانی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۱۳/۲۶۰)
(3)… مُحقِّق علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جن سب کے سب مُکَلَّف ہیں ۔( خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۱۳۱)
(4)…آیت نمبر30میں  ہے کہ جِنّات نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر کیا،اس کے بارے میں  حضرت عطاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے کہا: چونکہ وہ      جِنّات دین ِیہودِیَّت پر تھے اس لئے انہوں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر کیا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب کا نام نہ لیا، اور بعض مفسرین نے کہا : حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام