Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
279 - 764
ہماری قوم! اللہ کے منادی کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ وہ تمہارے گناہوں  میں  سے بخش دے گااور تمہیں  دردناک عذاب سے بچالے گا۔اور جو اللہ کے بلانے والے کی بات نہ مانے تووہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں  ہے اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں  ہے۔وہ کھلی گمراہی میں  ہیں ۔
{وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ: اور جب ہم نے تمہاری طرف جنوں  کی ایک جماعت پھیری۔} اس سے پہلی آیات میں  کفارِ مکہ کے سامنے سابقہ امتوں  کے حالات اور ان کا انجام بیان ہوا اور اب یہاں  سے ان کے سامنے جنوں  کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کر کے انہیں  شرم وعار دلائی جا رہی ہے چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفارِ مکہ کے سامنے اس وقت کا واقعہ بیان کیجئے جب ہم نے جنوں  کی ایک جماعت کو آپ کی طرف بھیج دیا جس کا حال یہ تھا کہ وہ غور سے قرآن سنتی تھی، پھر جب وہ قرآنِ مجید کی تلاوت کے وقت نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوئے توآپس میں  کہنے لگے: خاموش رہو تاکہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قراء ت اچھی طرح سن لیں  ، پھر جب تلاوت ختم ہوگئی تو وہ جنات رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لاکرآپ کے حکم سے اپنی قوم کی طرف ایمان کی دعوت دینے گئے اور انہیں  ایمان نہ لانے اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت سے ڈرایا ،چنانچہ انہوں  نے کہا:اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب قرآن شریف سنی ہے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد نازل کی گئی ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ پہلی کتابوں  کی تصدیق فرماتی ہے ، حق اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے ہماری قوم!اللہ تعالیٰ کے مُنادی حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بات مانو اور ان پر ایمان لاؤ، اس کے نتیجے میں  اللہ تعالیٰ تمہارے اسلام قبول کرنے سے پہلے کے گناہ بخش دے گا اور تمہیں  دردناک عذاب سے بچالے گا اور یاد رکھو!جو اللہ تعالیٰ کے بلانے والے کی بات نہ مانے گا تووہ زمین میں  اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں  نہیں  جا سکتا اور ا س کے عذاب سے بچ نہیں  سکتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں  ہے جو ا سے عذاب سے بچا سکے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مُنادی حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بات نہ مانیں  وہ کھلی گمراہی میں  ہیں  کیونکہ جب ان کی صداقت پر مضبوط دلائل قائم ہیں  تو ان کی بات نہ ماننا ایسی گمراہی ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں  ہے۔اس واقعے کو سن کر