ذمہ داری یہ ہے کہ مجھے جو احکام دے کر بھیجا گیا ہے وہ تم تک پہنچا دوں ،اس لئے تمہیں تبلیغ کر کے میں تو اپنی ذمہ داری پور ی کر رہا ہوں لیکن تم میرے حساب سے جاہل لوگ ہو کیونکہ تم اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے دائرہِ اختیار میں ہے ہی نہیں (اور یہ بھی تمہاری جہالت ہے کہ ایک طرف توحید کا انکار کر رہے ہو اور دوسری طرف اپنے ہی منہ سے مصیبت و بلا مانگ رہے ہو)۔( روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۳، ۸/۴۸۱)
فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْۙ-قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَاؕ-بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖؕ-رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا اُن کی وادیوں کی طرف آتا بولے یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب انہوں نے اسے (یعنی عذاب کو) بادل کی صورت میں پھیلا ہوا اپنی وادیوں کی طرف آتا ہوا دیکھا توکہنے لگے: یہ ہمیں بارش دینے والابادل ہے۔(کہا گیا کہ، نہیں ) بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم نے جلدی مچائی تھی، یہ ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
{فَلَمَّا رَاَوْهُ: پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا۔} جبِ قوم عاد نے کسی طرح حق کو قبول نہ کیا تو ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا گیا تھا وہ آگیا،اس کی صورت یہ ہوئی کہ کچھ عرصہ ان کے علاقوں میں بارش نہ ہوئی ،پھراللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک سیاہ بادل چلایا جس میں ان پر آنے والا عذاب تھا اور جب انہوں نے عذاب کو بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو وہ لوگ خوش ہو گئے اور کہنے لگے: یہ ہمیں بارش دینے والابادل ہے۔حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا:یہ برسنے والا بادل نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی