Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
274 - 764
مچارہے تھے، اس بادل میں  ایک آندھی ہے جس میں  دردناک عذاب ہے۔( تفسیرکبیر، الاحقاف،تحت الآیۃ:۲۴،۱۰/۲۵، روح البیان،الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۴، ۸/۴۸۲، مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۱۱۲۸-۱۱۲۹، ملتقطاً)
تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں  مجرموں  کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے تو صبح کو ان کی ایسی حالت تھی کہ ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔ ہم مجرموں  کوایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔
{تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا: اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔} یعنی اس آندھی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے ،چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے قومِ عادکے مَردوں  ، عورتوں ، چھوٹوں  ، بڑوں  سب کو ہلاک کردیا ، ان کے اَموال آسمان وز مین کے درمیان اُڑتے پھرتے تھے اور ان کی چیزیں  پارہ پارہ ہوگئیں  اور صبح کے وقت ایسی حالت تھی کہ وہاں  ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ ہم مجرموں  کوایسی ہی سزا دیتے ہیں  جیسی ہم نے قومِ عاد کو دی،اس لئے کفارِ مکہ کو بھی اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے کفر و عناد پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ ان پر بھی قومِ عاد جیسی آندھی بھیج سکتا ہے۔( جلالین، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۴۱۸، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۵، ۸/۴۸۲-۴۸۳، ملتقطاً)
وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـٕدَةً ﳲ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْـٕدَتُهُمْ