Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
269 - 764
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ لذیذ چیزوں  سے فائدہ اٹھانے کی مذموم اور غیر مذموم صورتیں :
	یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی لذیذاورپسندیدہ حلال چیزوں  کوحاصل کرنا اور ان سے نفع اٹھاناگناہ نہیں  کیونکہ شریعت میں  حلال اورطیب چیزکے حصول اوراس سے نفع اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی ان چیزوں  کا استعمال جائز اور حلال سمجھتے ہوئے انہیں  ترک کرنا قابلِ مذمت ہے بلکہ مذموم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  سے فائدہ اٹھائے اوران کاشکرادانہ کرے ،یاحرام ذریعے سے حاصل کر کے انہیں  استعمال کرے ،یاحلال چیزوں  کی بجائے حرام چیزوں  سے فائدہ اٹھائے، لہٰذا بعض بزرگانِ دین کا حلال و طیب، لذیذ اور عمدہ چیزوں  کو استعمال کرنا مذموم نہیں  کیونکہ وہ شریعت کی دی ہوئی اجازت پر عمل کر رہے ہوتے ہیں  ،اسی طرح بعض بزرگانِ دین کاان چیزوں  کے استعمال سے گریز کرنا بھی مذموم نہیں  کیونکہ وہ ان کے ساتھ حرام جیسا سلوک نہیں  کرتے بلکہ ان کاا ستعمال جائز و حلال سمجھتے ہوئے اپنے نفس کی اصلاح کے لئے ایسا کرتے ہیں  ،البتہ ان لوگوں  کا طرزِ عمل ضرور مذموم ہے جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں  سے فائدہ اٹھانا اپنے اوپر حرام قرار دیتے ہوئے ان سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۱۶۸،۱۶۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو! جو کچھ زمین میں  حلال پاکیزہ  ہے اس میں  سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں  پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تمہیں  صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ (حکم دے گا) کہ تم اللہ کے بارے میں  وہ کچھ کہو جو خود تمہیں  معلوم نہیں ۔
	اور ارشاد فرمایا:
’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ‘‘(بقرہ:۱۷۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں  کھاؤاور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔