Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
268 - 764
وَسَلَّمَ نے اپنے پیٹ پربندھے ہوئے دوپتھردکھائے ۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ماجاء فی معیشۃ اصحاب النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۴/۱۶۴، الحدیث: ۲۳۷۸)
(6)…جب حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ ملکِ شام میں  گئے توان کے لیے ایسالذیذ کھاناتیارکیاگیاکہ اس سے پہلے اتنالذیذ کھانادیکھانہیں  گیاتھا،حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا:یہ کھاناہمارے لئے ہے توان     محتاج مسلمانوں  کے لیے کیاتھاجواس حا ل میں  فوت ہوگئے کہ انہوں  نے جَوکی روٹی بھی پیٹ بھرکرنہیں  کھائی؟ حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی:ان کے لیے جنت ہے ۔یہ سن کرحضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی آنکھوں  سے آنسوبہنے لگے اورآپ نے فرمایا :کاش!ہمارے لیے دنیاکاحصہ چندلکڑیاں  ہوتیں  ،وہ محتاج مسلمان اپنے حصے میں  جنت لے گئے، ہم میں  اوران میں  بہت فرق ہے ۔( قرطبی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۸/۱۴۶، الجزء السادس عشر)
	کائنات کی ان مُقَدّس ہستیوں  کے زُہد و قناعت کاصدقہ اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی زہد و قناعت کی عظیم دولت عطا فرمائے،اٰمین۔
نفس کو نہ کھلی چھٹی دی جائے نہ ہر حال میں  اس کی پیروی کی جائے:
	امام محمدغزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ بزرگانِ دین کے زُہد و قناعت اور دُنْیَوی لذّتوں سے کنارہ کشی کے واقعات ذکر کرنے کے بعدفرما تے ہیں : خلاصہ یہ ہے کہ نفس کو جائز خوا ہشات کے لئے بھی کھلی چھٹی نہیں  دینی چاہئے اور نہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ ا س کی ہر حال میں  پیروی کی جائے ،بندہ جس قدر خواہشات کو پورا کرتا ہے اسی قدر اسے اس بات کا ڈر بھی ہونا چاہئے کہ کہیں  قیامت کے دن ا س سے یہ نہ کہہ دیا جائے:
’’ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے۔
	اور جس قدر بندہ اپنے نفس کو مجاہدات میں  ڈالے گا اور خواہش کو چھوڑے گا اسی قدر آخرت میں  من پسند چیزوں  سے نفع اٹھائے گا۔( احیاء علوم الدین، کتاب کسر الشہوتین، بیان طریق الریاضۃ فی کسر شہوات البطن، ۳/۱۱۸)