Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
270 - 764
	اور ارشاد فرمایا :
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷) وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ‘‘(مائدہ:۸۷،۸۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں  کو حرام نہ قرار دوجنہیں  اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں  کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور جو کچھ تمہیں  اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہےاس میں  سے کھاؤ اوراس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔
	اور ارشاد فرمایا:
’’قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘‘(اعراف:۳۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں  کے لئے پیدا فرمائی ہے؟ اور پاکیزہ رزق کو (کس نے حرام کیا؟) تم فرماؤ: یہ دنیا میں  ایمان والوں  کے لئے ہے، قیامت میں  تو خاص انہی کے لئے ہوگا۔ ہم اسی طرح علم والوں  کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں ۔
	اللہ تعالیٰ ہمیں  شریعت کے اَحکام اور مَقاصد کو سمجھنے اور اِعتدال کی راہ پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین۔
وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍؕ-اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ