تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی دنیا سے کنارہ کشی:
حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہر چیز کے مالک ہیں اور آپ جیسی چاہتے ویسی شاہانہ زندگی بسر فرما سکتے تھے لیکن آپ نے اس زندگی پر قدرت و اختیار کے باوجود زُہد و قناعت سے بھر پور اور دنیا کے عیش و عشرت سے دور رہتے ہوئے زندگی بسر فرمائی اور آپ کی صحبت سے فیض یافتہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بھی اسی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی ،یہاں ان کی زاہدانہ زندگی کے مزید6واقعات ملاحظہ ہوں :
(1)…حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ معاملہ پیش فرمایا کہ میرے لیے مکہ کی واد ی سونے کی بنادے ،میں نے عرض کی: اے میرے رب! (عَزَّوَجَلَّ) نہیں ، میں ایک دن پیٹ بھرکرکھائوں گااورایک دن بھوکارہوں گا،پھرجب میں بھوکارہوں گاتوتجھ سے فریاد کروں گااورتجھے یادکروں گااورجب میں سیرہوکرکھائوں گاتومیں تیراشکراداکروں گااورتیری حمد کروں گا۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الکفاف والصبر علیہ، ۴/۱۵۵، الحدیث: ۲۳۵۴)
(2)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : پورا پور امہینہ گزر جاتا تھا مگرگھر میں آ گ نہ جلتی تھی ، محض چند کھجوروں اورپانی پر گزارہ کیا جاتا تھا ۔( بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ، ۴/۲۳۶، الحدیث: ۶۴۵۸)
(3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں :ایک مرتبہ حضرت سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے (جَو کی) روٹی کا ایک ٹکڑا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں پیش کیاتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ پہلاکھاناہے جو تین دن کے بعدتمہارے والد کے منہ میں داخل ہواہے ۔( معجم الکبیر، ومما اسند انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ، ۱/۲۵۸، الحدیث: ۷۵۰)
(4)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات تک آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہلِ بیت نے کبھی جَو کی روٹی بھی دو دن مُتَواتِر نہ کھائی۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۸، الحدیث: ۲۲(۲۹۷۰))
(5)…حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ہم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں بھوک کی شکایت کی اوراپنے پیٹ سے کپڑااٹھاکرآپ کوپیٹ پربندھے ہوئے پتھردکھائے تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ