مِّنْ شَیْءٍ‘‘(طور:۲۱)
اولاد کو ان کے ساتھ ملادیں گے اور اُن (والدین) کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے۔
اولاد کے نیک اعمال سے ان کے والدین کو فائدہ پہنچنے کے بارے میں یہ حدیث ملاحظہ ہو ۔ حضرت معاذ جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو قرآن پڑھے اور اس کے اَحکام پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی جو دنیا میں تمہارے گھروں میں چمکتا ہے ، تو خود اس شخص کے بارے تمہارا کیا خیال ہے جس نے اس پر عمل کیا۔( ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی ثواب قراء ۃ القرآن، ۲/۱۰۰، الحدیث: ۱۴۵۳)
وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْاۚ-وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہر ایک کے لیے اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھر دے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سب کے لیے ان کے اعمال کے سبب درجات ہیں اور تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
{وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا: اور سب کے لیے ان کے اعمال کے سبب درجات ہیں ۔} یعنی مومن اور کافر میں سے ہر ایک کے لئے قیامت کے دن مَنازل اور مَراتب ہیں اور یہ ان کے دنیا میں کئے ہوئے اچھے اور برے اعمال کے سبب ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ان کی فرمانبرداری اور کافروں کو ان کی نافرمانی کی پوری جزا دے کیونکہ قیامت کے دن کسی پر زیادتی نہیں ہوگی۔ (جلالین، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۴۱۷، البحر المحیط، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۹، ۸/۶۲، ملتقطاً)
وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِؕ-اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ