Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
265 - 764
الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ-فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: اورجس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے اُن سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور انہیں  برت چکے تو آج تمہیں  ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں  ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے (تو کہا جائے گا) تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے تو آج تمہیں  ذلت کے عذاب کابدلہ دیا جائے گا کیونکہ تم زمین میں  ناحق تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔
{وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن کافر جہنم کی آگ پر پیش کیے جائیں  گے تواس وقت ان سے فرمایا جائے گا:تم لذّتوں  میں  مشغول ہو کراپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے ،اس لئے یہاں  آخرت میں  تمہارا کوئی حصہ باقی نہ رہا جسے تم لے سکو، تو تم جودنیامیں  ایمان قبول کرنے سے ناحق تکبر کرتے تھے اوراحکامات کو ترک کر کے اور ممنوعات کا اِرتکاب کر کے نافرمانی کیا کرتے تھے ا س کے بدلے میں  آج تمہیں  ذلیل اور رسوا کردینے والا عذاب دیا جائے گا۔(صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۵/۱۹۳۹-۱۹۴۰، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۸/۴۷۹، ملتقطاً)
اُخروی ثواب میں  اضافے کی خاطر دُنْیَوی لذتوں  کو ترک کر دیناـ:
	اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے دُنْیَوی لذتوں  اور عیش و عشرت کو اختیارکرنے پر کفار کی مذمت اور انہیں  ملامت فرمائی ہے،اسی لئے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ اور امت کے دیگر