Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
263 - 764
مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: یہ وہ ہیں  جن پر بات ثابت ہوچکی ان گروہوں  میں  جو ان سے پہلے گزرے جن اور آدمی بیشک وہ زیاں  کار تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ وہ لوگ ہیں  جن پر بات ثابت ہوچکی ہے(یہ)جنوں  اور انسانوں  کے ان گروہوں  میں  (شامل) ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔
{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ: یہ وہ لوگ ہیں  جن پر بات ثابت ہوچکی ہے۔} یعنی یہ باطل باتیں  کہنے والے وہ لوگ ہیں  جن پر جہنم میں  داخل کئے جانے کی بات ثابت ہو چکی ہے اوریہ اپنے رب کے احکام سے سرکشی کرنے اور رسولوں  کو جھٹلانے والے جنوں  اور انسانوں  کے ان گروہوں  میں  شامل ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، بیشک وہ ہدایت کے بدلے گمراہی اور نعمتوں  کے بدلے عذاب کو اختیار کر کے نقصان اٹھانے والے تھے۔( روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۸، ۸/۴۷۷، تفسیر طبری، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۱/۲۸۸، ملتقطاً)
قیامت کے دن کافر اولاد اپنے مومن والدین کے ساتھ نہ ہوگی:
	اس آیت سے معلوم ہواکہ قیامت کے دن کافر اولاد اپنے مومن ماں  باپ کے ساتھ نہ ہوگی بلکہ کفار کے ساتھ ہوگی، کیونکہ یہاں  فرمایا گیا کہ یہ اولاد پچھلے جن و اِنس کفار میں  شامل ہوگی۔ قیامت میں  ایمانی رشتہ مُعتبر ہو گا نہ کہ محض خونی رشتہ، جیسے کنعان اگرچہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نسبی بیٹا تھا مگر رہا کفار کے ساتھ، انہیں  کے ساتھ ہلاک ہوا اور انہیں  کے ساتھ جہنم میں  جائے گا کیونکہ اس نے ایمان قبول نہیں  کیا تھا۔ یاد رہے کہ مومن اولاد اور مومن والدین کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچے گا۔ والدین کے نیک اعمال سے ان کی اولاد کو فائدہ پہنچنے کے بارے میں  یہ آیت ملاحظہ ہو ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس) اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم ان کی