{وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور کافروں نے کہا۔} نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے والوں میں غریب لوگ سرِ فہرست تھے جیسے حضرت عمار،حضرت صُہیب اور حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ وغیرہ، کفارِ مکہ نے ان کے بارے میں کہا کہ اگر اُس قرآن اور دین میں کچھ بھلائی ہوتی جو محمد (مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) لے کر آئے ہیں تو یہ غریب مسلمان ہم سے پہلے اسلام قبول نہ کر لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جب یہ بات کہنے والوں کو اِس قرآن سے اُس طرح ہدایت نہ ملی جس طرح ایمان والوں کو ملی ہے تو یہ صرف اسی بات پر اِکتفا نہیں کریں گے بلکہ عناد کی وجہ سے قرآنِ مجید کے بارے میں اب کہیں گے کہ یہ قرآن ایک پرانا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔(مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۱۲۵، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۱، ۸/۴۷۰، ملتقطاً)
وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہے پیشوا اور مہربانی اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے اور نیکوں کو بشارت۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ(قرآن) عربی زبان میں ہوتے ہوئے تصدیق کرنے والی ایک کتاب ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوں کیلئے بشارت ہو۔
{وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔} اس سے پہلی آیت میں کفار کا ایک اعتراض ذکر ہوا کہ اگر اس قرآن میں کوئی بھلائی ہوتی تو ہم غریب لوگوں سے پہلے ایمان لے آتے ،یہاں اس اعتراض کا رد کیا جا رہاہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کی یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے حالانکہ قرآنِ مجید سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تورات کا نازل ہونا اور اس کتاب کا اللہ تعالیٰ کے دین کی پیروی کرنے والوں کا پیشوا ہونا اوراس پر ایمان لانے والوں اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے والوں کے