Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
256 - 764
بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔حضرت عبداللہ بن سلام نے (یہ سن کر) کہا: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَ اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں  اور میں  گواہی دیتا ہوں  کہ بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک یہودی بہت بہتان تراش قوم ہے، اگر ان کومیرے اسلام کاآپ کے اُن سے پوچھنے سے پہلے علم ہوگیا تووہ مجھ پربہتان لگائیں  گے ۔ پھر یہودی آئے تونبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے سوال کیا’’ تم میں  عبداللہ کیسے ہیں ؟انہوں  نے کہا: وہ ہم میں  سب سے بہتر ہیں ، ان کے والد بھی ہم میں  سب سے بہترتھے،وہ ہمارے سردارہیں  اورہمارے سردار کے بیٹے ہیں  ۔ارشاد فرمایا: ’’اگر عبداللہ بن سلام مسلمان ہوجائیں  تو تم کیا کہو گے؟ انہوں  نے کہا: اللہ تعالیٰ ان کواس سے اپنی پناہ میں  رکھے۔ پھر حضرت عبداللہ بن سلام باہرنکلے اور کہا: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ‘‘ تو یہود یوں نے کہا:وہ ہم میں سب سے بُرے ہیں ، سب سے بُرے شخص کے بیٹے ہیں  اور ان کی برائیاں  بیان کیں ۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجھے اسی چیز کاخدشہ تھا۔( بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ: من کان عدوّا لجبریل، ۳/۱۶۶، الحدیث: ۴۴۸۰)
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِؕ-وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور کافروں  نے مسلمانوں  کو کہا اگر اس میں  کچھ بھلائی ہوتی تو یہ ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے اور جب انہیں  اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب کہیں  گے کہ یہ پرانا بہتان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں  نے مسلمانوں  کے متعلق کہا:اگر اس ( اسلام)میں  کچھ بھلائی ہو تو یہ مسلمان اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے اور جب ان کہنے والوں  کو اس قرآن سے ہدایت نہ ملی تو اب کہیں  گے کہ یہ ایک پرانا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔