لئے رحمت ہونا انہیں خود تسلیم ہے اور یہ قرآن جس کے بارے میں کفارِمکہ ایسی بیہودہ گفتگو کرتے ہیں ،اس کی شان تو یہ ہے کہ یہ عربی زبان میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب اور تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ایک کتاب ہے جو اس لئے نازل ہوئی ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوں کیلئے بشارت کا ذریعہ ہو۔( روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۲، ۸/۴۷۱)
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے۔} اس سے پہلی آیات میں توحید اور نبوت کے دلائل بیان ہوئے ،منکروں کے شُبہات ذکر کر کے ان کاجواب دیا گیا اور اب یہاں سے توحید و رسالت پر ایمان لانے اور اس پر ثابت قدم رہنے والوں کی جزابیان کی جا رہی ہے ،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے