ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بھلا دیکھو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم اس کا انکار کرو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہے تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا۔بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
{قُلْ اَرَءَیْتُمْ: تم فرماؤ: بھلا دیکھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرمادیں کہ اے کافرو! میری طرف جس قرآن کی وحی کی جاتی ہے اگر وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تمہارا حال یہ ہو کہ تم اس کا انکار کر رہے ہو جبکہ بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہو کہ وہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، پھر وہ گواہ تو ایمان لے آیا اور تم نے ایمان لانے سے تکبر کیا تو مجھے بتاؤ کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا ؟کیا ایسی صورت میں تم ظالم نہیں ہو؟ (یقینا اِس صورت میں تم نے ایمان نہ لا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا اور )بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔( خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۱۲۴، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۸/۴۶۹، ملتقطاً)
بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد کون ہے؟
جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ مدینہ منورہ میں ایمان لائے۔( مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۱۲۵)
آپ کے ایمان لانے سے متعلق حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے سناکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے ہیں تووہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:میں آپ سے تین ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کروں گاجن کونبی کے سواکوئی نہیں جانتا۔(1)قیامت کی پہلی علامت کیاہے ؟(2)اہلِ جنت کاپہلاکھاناکون سا ہوگا؟ (3)بچہ اپنے باپ یاماں کے کیسے مشابہ ہوتاہے ؟ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جولوگوں کومشرق سے مغرب تک جمع کرے گی اوراہلِ جنت کاپہلاکھانامچھلی کی کلیجی کاٹکڑاہوگااورجب مرد کا پانی عورت کے پانی پرغالب آجائے تووہ بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتاہے اورجب عورت کاپانی مرد کے پانی پرغالب آجائے تووہ