Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
248 - 764
کرکے خود کواس کے عذاب کے لئے پیش کر دیتا ،(نیز تم جانتے ہو کہ مجھے کسی طرح کی کوئی سز انہیں  دی گئی، تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے میں  اپنی رسالت کے دعوے میں  جھوٹا نہیں  ہوں  اور نہ ہی میں  نے اپنی طرف سے قرآن بنایا ہے اور جب میں  سچا ہوں  اور قرآن اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے تو یاد رکھو!)اللہ تعالیٰ ان باتوں  کو خوب جانتا ہے جن میں  تم مشغول ہواور تم جو کچھ قرآنِ پاک کے بارے کہتے ہو وہ بھی اسے اچھی طرح معلوم ہے تو وہ تمہیں  ا س کی سزا دے گا اور یاد رکھو!میرے اور تمہارے درمیان سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کے لئے گواہ کے طور پر اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے، (لہٰذا اگر بالفرض میں  جھوٹا ہوا تو وہ مجھے فوری عذاب دے گا اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو وہ تمہیں  فوری یا کچھ عرصے بعد عذاب دے گا۔) پھر انہیں  توبہ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ ان سب باتوں  کے باوجود اگر تم اپنے کفر سے رجوع کر کے توبہ کر لو تو وہ تمہاری توبہ قبول فرما کر تمہیں  معاف فرمادے گا، تمہیں  بخش دے گا اور تم پر رحم فرمائے گا کیونکہ ا س کی شان یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔( تفسیرکبیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۸، ۱۰/۸، خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۸، ۴/۱۲۳، مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۱۲۴، ابن کثیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۸، ۷/۲۵۳-۲۵۴، ملتقطاً)
قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْؕ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ میں  کوئی انوکھا رسول نہیں  اور میں  نہیں  جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں  تو اسی کا تابع ہوں  جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں  نہیں  مگر صاف ڈر سنانے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں  کوئی انوکھا رسول نہیں  ہوں اور میں  نہیں  جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیاہوگا؟ میں  تو اسی کا تابع ہوں  جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں تو صرف صاف ڈر سنانے والا ہوں  ۔
{قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ: تم فرماؤ: میں  کوئی انوکھا رسول نہیں  ہوں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرنت نئے اعتراضات کرنا کفارِ مکہ کا معمول تھا،چنانچہ کبھی وہ کہتے کہ کوئی بشرکیسے رسول