Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
247 - 764
 کہتے ہیں  :یہ ایسا کھلا جادو ہے جس کے جادو ہونے میں  کوئی شُبہ نہیں  (ان کی یہ بات باطل ہونے کی صریح دلیل یہ ہے کہ جادو وہ چیز ہے جس کی نظیر ممکن ہے اور قرآنِ مجید کی نظیر ممکن ہی نہیں ، لہٰذا قرآن جادو ہر گز نہیں  ہے)۔( جلالین، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۷، ص۴۱۶، مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۱۲۴، ملتقطاً)
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِؕ-كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْؕ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: کیا کہتے ہیں  انہوں  نے اسے جی سے بنایا تم فرماؤ اگر میں  نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں  رکھتے وہ خوب جانتا ہے جن باتوں  میں  تم مشغول ہو اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ وہ یہ کہتے ہیں  کہ اس(نبی) نے خود ہی قرآن بنالیا ہے ۔ تم فرماؤ: اگر میں  نے اسے خود ہی بنایا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرے لئے کسی چیز کے مالک نہیں  ہو ۔وہ خوب جانتا ہے جن باتوں  میں  تم مشغول ہواور میرے اور تمہارے درمیان وہ کافی گواہ ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
{اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ: بلکہ وہ یہ کہتے ہیں  کہ اس(نبی) نے خود ہی قرآن بنالیا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ کفارِ مکہ کا قرآنِ مجید کو جادو کہنا ایک طرف ،وہ تو اس سے بھی بدتر بات یہ کہتے ہیں  کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خود ہی قرآن بنالیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیاہے۔اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں  کہ اگر بِالفرض میں  اپنی طرف سے قرآن بنا کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتا تو یہ اللہ تعالیٰ پر اِفتراء ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ وہ ایسے اِفتراء کرنے والے کو جلد سزا میں  گرفتار کرتا ہے اور تمہیں  تو یہ قدرت حاصل ہی نہیں  کہ تم کسی کو اس کی سزا سے بچاسکو یا کسی سے اس کے عذاب کو دور کرسکو، تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں  اللہ تعالیٰ پر اِفتراء