Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
249 - 764
ہوسکتاہے؟ رسول توکسی فرشتے کوہوناچاہیے ،کبھی کہتے کہ آپ توہماری طرح کھاتے پیتے ہیں  ،ہماری طرح بازاروں  میں  گھومتے پھرتے ہیں ،آپ کیسے رسول ہوسکتے ہیں  ؟کبھی کہتے: آپ کے پاس نہ مال ودولت ہے اورنہ ہی کوئی اثر ورسوخ ہے ۔ان سب باتوں  کاجواب اس آیتِ مبارکہ میں  دیاگیاکہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں :میں کوئی انوکھارسول نہیں  ہوں  بلکہ مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں ، وہ بھی انسان ہی تھے اوروہ بھی کھاتے پیتے تھے اور یہ چیزیں  جس طرح ان کی نبوت پر اعتراض کا باعث نہ تھیں  اسی طرح میری نبوت پر بھی اعتراض کا باعث نہیں  ہیں  تو تم ایسے فضول شُبہات کی وجہ سے کیوں  نبوت کا انکار کرتے ہو؟
	دوسری تفسیر یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کفارِ مکہ عجیب معجزات دکھانے اور عناد کی وجہ سے غیب کی خبریں  دینے کا مطالبہ کیا کرتے تھے ۔اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا گیا کہ آپ کفارِ مکہ سے فرما دیں  کہ میں  انسانوں  کی طرف پہلا رسول نہیں  ہوں  بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول تشریف لاچکے ہیں  اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے بندوں  کو اس کی وحدانیّت اور عبادت کی طرف بلاتے تھے اور میں  اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف بلانے والا نہیں  ہوں  بلکہ میں  بھی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت پر ایمان لانے اور سچے دل کے ساتھ اس کی عبادت کرنے کی طرف بلاتا ہوں  اور مجھے اَخلاقی اچھائیوں  کو پورا کرنے کے لئے بھیجاگیا ہے اور میں  بھی اس چیز پر (ذاتی)قدرت نہیں  رکھتا جس پر مجھ سے پہلے رسول (ذاتی) قدرت نہیں  رکھتے تھے، تو پھر میں  تمہیں  تمہارا مطلوبہ ہر معجزہ کس طرح دکھا سکتا ہوں  اور تمہاری پوچھی گئی ہر غیب کی خبر کس طرح دے سکتا ہوں  کیونکہ مجھ سے پہلے رسول وہی معجزات دکھایا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں  عطا فرمائے تھے اور اپنی قوم کو وہی خبریں  دیا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی تھیں  اور جب میں  نے پچھلے رسولوں  سے کوئی انوکھا طریقہ اختیار نہیں  کیا تو پھر تم میری نبوت کا انکار کیوں  کرتے ہو؟( تفسیرکبیر ، الاحقاف ، تحت الآیۃ : ۹، ۱۰/۹ ، خازن ، الاحقاف ، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۱۲۳، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۸/۴۶۷، ملتقطاً)
{وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ: اور میں  نہیں  جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟} آیت کے اس حصے کے بارے میں  مفسرین نے جو کلام فرمایا ہے ا س میں  سے چار چیزیں  یہاں  درج کی جاتی ہیں ،