ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب لوگوں کا حشر ہوگاتو وہ بت ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوجائیں گے۔
{وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ: اور جب لوگوں کا حشر ہوگا۔} یعنی دنیا میں تو بتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے پکارنے والوں کی پکار سننے اورسمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور قیامت کے دن ان کا حال یہ ہو گا کہ اس دن جب قبروں سے نکالنے کے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ بت ا پنے پُجاریوں کے دشمن ہوں گے اور انہیں نفع کی بجائے نقصان پہنچائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے: ہم نے انہیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ، درحقیقت یہ اپنی خواہشوں کے پَرَسْتار تھے۔ (یعنی اپنی مرضی سے جس کو چاہا خدا قرار دیدیا اور اس کی پوجا شروع کردی تو یہ حقیقت میں اپنی خواہش کی پوجا ہوئی۔)(مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۱۲۳-۱۱۲۴، صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۶، ۵/۱۹۳۲، ملتقطاً)
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْۙ-هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب اُن پر پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کے بارے میں کہتے ہیں : یہ کھلا جادو ہے۔
{وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ: اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں ۔} اس سے پہلی آیات میں توحید کے حق ہونے اور بتوں کی عبادت باطل ہونے کے بارے میں بیان کیاگیا اور اب یہاں سے قرآنِ مجید کے بارے کفار کی گفتگو ذکر کی جا رہی ہے ،چنانچہ اس آیت میں فرمایا گیا کہ جب اہلِ مکہ کے سامنے قرآنِ مجید کی روشن آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان میں سے کافر لوگ غور وفکر کئے اور اچھی طرح سنے بغیر قرآن شریف کے بارے میں