فرمانے والے کی شان یہ ہے کہ وہ عزت والا اور غلبے والا ہے اور قرآن کلامِ الٰہی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔
(4)…قرآنِ حکیم انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پر مشتمل ہے کیونکہ یہ حکمت والے رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو اہے ۔
مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقرر میعاد پراور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے منہ پھیرے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی اور ایک مقررہ مدت تک (کیلئے)بنایا اور کافر اس چیز سے منہ پھیرے ہیں جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے۔
{مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ: ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ بنایا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی بنایا تاکہ وہ ہماری قدرت ،وحدانیّت ،کمال کی باقی صفات ،اور ہر نقص و عیب سے پاک ہونے پر دلالت کریں کیونکہ تخلیق کے ذریعے حق کی پہچان ہوتی ہے اور ہر صَنعَت اپنے بنانے والے کے وجود اور اس کے کمال کی صفت کے ساتھ مُتَّصف ہونے پر دلالت کرتی ہے ،نیزانہیں ہمیشہ باقی رہنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ ایک مقررہ مدت تک کیلئے بنایا ہے اوروہ مقررہ مدت قیامت کا دن ہے جس کے آجانے پر آسمان اور زمین فنا ہوجائیں گے اور جس چیز سے کفار کو ڈرایا گیا ہے وہ اس پر ایمان لانے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔اس چیز سے مراد عذاب ہے، یااس سے قیامت کے دن کی وحشت مراد ہے، یااس سے قرآنِ پاک مراد ہے جو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کا حساب لئے جانے کا خوف دلاتا ہے۔(جلالین مع صاوی، الاحقاف،تحت الآیۃ:۳، ۵/۱۹۳۱، خازن،الاحقاف،تحت الآیۃ:۳،۴/۱۲۲، مدارک، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳، ص۱۱۲۳، ملتقطاً)