بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
حٰمٓۚ(۱) تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: یہ کتاب اُتارنا ہے اللہ عزت و حکمت وا لے کی طرف سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: حٰمٓ۔ کتاب کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا، حکمت والاہے۔
{حٰمٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے،اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ: کتاب کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے۔} یعنی قرآنِ مجیدکو حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی طرف سے نہیں بنایا اور نہ ہی کسی انسان اور جن سے اسے نقل کیا ہے بلکہ یہ قرآن اس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو اپنی سَلْطَنَت میں عزت اور غلبے والا اور اپنی صَنعَت میں حکمت والا ہے۔( جلالین مع صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲، ۵/۱۹۳۱)
قرآنِ مجید کی چار خوبیاں :
اس آیت سے قرآنِ کریم کی چار خوبیاں معلوم ہوئیں ،
(1)…قرآنِ عظیم کسی انسان یا جن کا کلام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
(2)…قرآنِ مجید حق اور سچ ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا‘‘(النساء:۱۲۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے؟
(3)…قرآنِ کریم اپنی عبارت اور معنی دونوں کے اعتبار سے تمام کتابوں پر غالب ہے کیونکہ اس کتاب کو نازل