آیت ’’وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے 5باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)…اس آیت سے ثابت ہوا کہ اس جہان کاایک خدا ہے اور یہ وہ ہے جس کی قدرت کے آثار آسمانوں اور زمین میں کئی طرح سے ظاہر ہیں ۔
(2)…اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو عَبَث ،بے کار اور بے فائدہ نہیں بنایا بلکہ ہر چیز کو کسی نہ کسی حکمت سے بنایا ہے۔
(3)… تمام مخلوقات کو پیدا فرمائے جانے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں اور اس کی قدرت و وحدانیّت پر ایمان لائیں ۔
(4)… مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور قیامت کا واقع ہونا حق ہے کیونکہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو ظالموں سے مظلوموں کا حق لینا رہ جائے گا اور اطاعت گزار مومنین ثواب کے بغیر اور کافر عذاب کے بغیر رہ جائیں گے اور یہ اس حقیقت کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی بنایا ہے۔
(5)…اس جہان کو اس لئے پیدا نہیں کیا گیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے باقی رہے بلکہ اسے ایک مخصوص مدت تک مُکَلَّف لوگوں کے لئے عمل کرنے کا مقام بنایا ہے تاکہ وہ یہاں نیک عمل کر کے آخرت میں اس کی اچھی جز اپائیں ، لہٰذا ہر شخص کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس سے کیا مطلوب ہے اور اسے کس لئے پیدا کیاگیاہے۔( تفسیرکبیر، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳، ۱۰/۵-۶، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳، ۸/۴۶۱-۴۶۲، ملتقطاً)
قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِؕ-اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤانہوں نے زمین کا کون سا ذرّہ بنایا یا