Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
240 - 764
کفارکے شُبہات کاجواب دیا گیا۔
(2)…اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کو ماننے والے ، اس کے دین پر ثابت قدم رہنے والے ،والدین کی اطاعت کرنے والے اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے والے کی جزاء بیان کی گئی کہ یہ جنّتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والے، والدین کی نافرمانی کرنے والے ،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والے کی سزا بیان کی گئی کہ یہ جہنمی ہے۔
(3)…حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم عاد کا واقعہ بیان کیاگیا کہ اس قوم کے لوگ اپنی طاقت و قوت کی وجہ سے سرکَش ہو گئے اور بتوں  کی پوجا کرنے پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ نے آندھی کے عذاب کے ذریعے انہیں  نیست نابُود کر دیا اور اس واقعے کو بیان کرنے سے مقصود کفارِ مکہ کو حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تکذیب کرنے سے ڈرانا ہے کہ اگر وہ اپنی اسی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کاانجام بھی قومِ عاد جیسا ہو سکتا ہے۔
(4)…قرآنِ پاک کی آیات سن کر ایمان قبول کرنے والی جنوں  کی ایک جماعت کا ذکر کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ انہوں  نے اپنی قوم کو حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کی دعوت دی اور انہیں  بتایا کہ جو ان پر ایمان نہیں  لائے گا وہ کھلی گمراہی میں  ہے۔
(5)… اس سورت کے آخر میں  مُردوں  کو دوبارہ زندہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل دی گئی اور یہ بتایاگیا کہ کفار بہر صورت جہنم کا عذاب پائیں  گے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تلقین کی کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا اور ان کافروں کے لیے عذاب طلب کرنے میں  جلدی نہ کرو۔
سورۂ جاثیہ کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ اَحقاف کی اپنے سے ما قبل سورت ’’جاثیہ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ دونوں  سورتوں  کی ابتداء میں  قرآنِ مجید کا تعارف بیان کیاگیا ۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ جاثیہ کے آخر میں  شرک کرنے پر مشرکین کی سرزَنِش کی گئی اور سورۂ اَحقاف کی ابتداء میں  بھی شرک کرنے پر ان کی سرزَنِش کی گئی ہے۔