Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
239 - 764
پارہ نمبر…26
سورۂ اَحقاف
سورۂ اَحقاف کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂ اَحقاف مکیہ ہے، البتہ بعض مفسرین کے نزدیک اس کی چند آیتیں  مدنی ہیں  اور وہ ’’قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ‘‘ اور ’’فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ‘‘ اور ’’وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ‘‘ سے لے کر ’’اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ‘‘ تک تین آیتیں  ہیں ۔( جلالین مع جمل، سورۃ الاحقاف، ۷/۱۵۳)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
	اس سورت میں  4رکوع، 35آیتیں  ، 644کلمے اور 2595حروف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ الاحقاف، ۴/۱۲۲)
’’اَحقاف ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	اَحقاف یمن کی اس سرزمین کا نام ہے جہاں  قومِ عاد آباد تھی، اور اس سورت کی آیت نمبر 21سے سرزمینِ اَحقاف میں  رہنے والی اس قوم کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورہِ اَحقاف‘‘ رکھا گیا۔
سورہِ اَحقاف کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  توحید،رسالت، وحی، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور اعمال کی جزاء ملنے کے بارے میں  کلام کیاگیا ہے اورا س سورت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں ،
(1)…ابتداء میںاللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قیامت سے متعلق دلائل دئیے گئے ،بتوں  کی پوجا کرنے والے مشرکین کی مذمت بیان کی گئی ، قرآنِ مجید اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کے بارے میں