کرنے کو چھوڑا ہوا تھا ، تمہارا ٹھکانہ جہنم کی آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں جو تمہیں اس عذاب سے بچاسکے۔( خازن، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۴، ۴/۱۲۱، جلالین، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۴۱۵، ملتقطاً)
ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۚ-فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹا بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ اُن سے کوئی منانا چاہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا مذاق بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے اللہ کو راضی کرنے کا مطالبہ ہوگا۔
{ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا: یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا مذاق بنایا۔} یعنی تمہیں یہ سزااس لیے دی گئی ہے کہ تم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا ٹَھٹّھا مذاق بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا کہ تم اس کے عاشق ہوگئے اور تم نے مرنے کے بعد اٹھنے اور حساب ہونے کا انکار کردیاتو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں گے اور نہ ہی اب ان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ توبہ کرکے اور ایمان و طاعت اختیار کرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کریں کیونکہ اس دن کوئی عذر اور توبہ قبول نہیں ۔(خازن، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۵، ۴/۱۲۱، مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۱۱۲۲، ملتقطاً)
فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۳۶)وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو اللہ ہی کے لیے سب خوبیاں ہیں آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہاں کا رب۔