گے اور قیامت ،جس کے بارے میں انہیں خبر دی گئی کہ اللہ تعالیٰ اسے بندوں کے حشر کے لئے قائم فرمائے گا اور اس دن انہیں حساب کے لئے جمع کرے گا ،اس کے آنے میں کوئی شک نہیں توتم اللہ تعالیٰ کے وعدے کو جھٹلاتے ہوئے اور اس کی قدرت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ہم نہیں جانتے ،قیامت کیا چیز ہے؟اور کہتے تھے کہ ہمیں تو یونہی قیامت آنے کاکچھ گمان سا ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کے آنے کا یقین نہیں ہے۔( تفسیر طبری، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۲، ۱۱/۲۶۸) اس سے معلوم ہوا کہ عقائد کے معاملے میں بے یقینی کی کیفیت تباہ ُکن ہوتی ہے۔
{وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا: اور ان کیلئے ان کے اعمال کی برائیاں کھل گئیں ۔} اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ آخرت میں کفار کے سامنے ان کے دنیا میں کئے ہوئے برے اعمال انتہائی بری شکلوں میں ظاہر ہو ں گے اور ان پروہی عذاب اتر پڑے گا اور انہیں گھیر لے گا جس کی دنیا میں ہنسی اڑاتے تھے۔ (روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۳، ۸/۴۵۸، جلالین، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۴۱۵، ملتقطاً)
وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(۳۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں چھوڑدیں گے جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے اور تمہارا ٹھکانا آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور فرمایا جائے گا: آج ہم تمہیں چھوڑدیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلایا ہوا تھا اور تمہارا ٹھکانہ آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ۔
{وَ قِیْلَ: اور فرمایا جائے گا۔} ارشاد فرمایا کہ ان کافروں سے قیامت کے دن فرمایا جائے گا :آج ہم تمہیں جہنم کے عذاب میں اسی طرح چھوڑ دیں گے جس طرح تم نے دنیا میں ایمان قبول کرنے اور ا س دن کی ملاقات کے لئے عمل