پر ایمان نہ لانے والے لوگ تھے۔( تفسیر طبری، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱۱/۲۶۸، تفسیرکبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ۹/۶۸۱، ملتقطاً)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں ان کفار کا ذکر ہے جن تک نبی کی تعلیم پہنچی اور انہوں نے قبول نہ کی لیکن وہ لوگ جو فَتْرَتْ کے زمانہ میں گزر گئے اگر مُوَحِّد (یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے والے) تھے تو نجات پائیں گے ،اگر مشرک تھے تو پکڑے جائیں گے مگر ان سے یہ سوا ل نہ ہوگا کیونکہ ان تک آیاتِ الٰہیہ پہنچی ہی نہیں۔( نور العرفان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۸۰۰)
وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُۙ-اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ(۳۲)وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کہا جاتا بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں ۔ اور اُن پر کھل گئیں ان کے کاموں کی بُرائیاں اور اُنھیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کہا جاتا کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں توتم کہتے تھے: ہم نہیں جانتے ،قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں ہے۔ اور ان کیلئے ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی اور انہیں وہی عذاب گھیر لے گا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے۔
{وَ اِذَا قِیْلَ: اور جب کہا جاتا۔} یعنی اس وقت ان کفار سے یہ بھی کہا جائے گا ’’ جب تم سے کہا جاتا کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ سچا ہے جو ا س نے اپنے بندوں سے کیا کہ وہ مرنے کے بعد زندہ کئے جائیں اور اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں