گویا کہ تمہارے اعمال ہم ہی لکھ رہے تھے۔( جلالین، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹، ص۴۱۵، روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹، ۸/۴۵۳-۴۵۴، تفسیر کبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹، ۹/۶۸۱، ملتقطاً)
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب انھیں اپنی رحمت میں لے گا یہی کھلی کامیابی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ یہی کھلی کامیابی ہے۔
{فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ: تو وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اطاعت گزاروں کاانجام بیان فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جو دنیا میں ایمان لائے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرایا اور جن کاموں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وہ کام کئے اور جن کاموں سے منع کیا ان سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے صدقے جنت میں داخل فرمائے گا اور قیامت کے دن یہی بڑی کامیابی ہے۔( تفسیرکبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۹/۶۸۱، تفسیر طبری، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۱۱/۲۶۷، ملتقطاً)
اُخروی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش زیادہ کی جائے:
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جہنم سے نجات مل جانا اور جنت میں داخلہ نصیب ہو جانا ہی حقیقی طور پر بڑی کامیابی ہے، لہٰذا ہر شخص کوچاہئے کہ وہ دنیا کی ناپائیدار کامیابی حاصل کرنے کے مقابلے میں آخرت کی ہمیشہ رہنے والی کامیابی حاصل کرنے کی زیادہ کوشش کرے ،جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ
’’ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۶۰)لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ‘‘(صافات:۶۰،۶۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک یہی بڑی کامیابی ہے۔ ایسی ہی