Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
232 - 764
نے آیت کے اس حصے سے قیامت کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن جہنمی ہونے کی صورت میں  کافروں  کا نقصان میں  ہونا ظاہر ہو جائے گا۔ (تفسیرکبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ۹/۶۸۰، جلالین، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۴۱۵، ملتقطاً)
وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً- كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَاؕ-اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۲۸)هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّؕ-اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۲۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم ہر گروہ کو دیکھو گے زانو کے بل گرے ہوئے ہر گروہ اپنے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا آج تمہیں  تمہارے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔ ہمارا یہ نَوِشْتَہ تم پر حق بولتا ہے ہم لکھتے رہے تھے جو تم نے کیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے، ہر گروہ اپنے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (اور کہا جائے گاکہ) آج تمہیں  تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔یہ ہمارا لکھا ہوا ہے جو تم پر حق بولتا ہے،بیشک ہم لکھتے رہے تھے جو تم کیا کرتے تھے۔
{وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً: اور تم ہر گروہ کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم قیامت کے دن یہ منظر بھی دیکھو گے کہ ہر دین والے زانو کے بل گرے ہوئے ہوں گے کیونکہ وہ خوفزدہ ہوں  گے اور اپنے اعمال کے بارے میں  سوالات کئے جانے اور حساب لئے جانے کی وجہ سے بے چین ہوں  گے ، ہردین والا اپنے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا اور ا ن سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں  تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ،یہ وہ (اعمال نامہ) ہے جسے لکھنے کا ہم نے فرشتوں  کو حکم دیا تھا، یہ کسی کمی زیادتی کے بغیر تمہارے خلاف تمہارے عملوں  کی گواہی دے گا،بیشک ہم نے فرشتوں کو تمہارے عمل لکھنے کا حکم دیا تھا تو